ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / جرمنی سے مہاجرین کی ملک بدری:صرف رقم کا لالچ کافی نہیں

جرمنی سے مہاجرین کی ملک بدری:صرف رقم کا لالچ کافی نہیں

Sun, 30 Jul 2017 17:14:16    S.O. News Service

برلن30جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا): وفاقی جرمن حکومت کے مشیر گیرالڈ کناؤس کاکہناہے کہ یورپی یونین کی مہاجرین سے متعلق پالیسیوں میں بہر صورت جلدازجلد اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی جلد وطن واپسی پر بھی زوردیاہے۔گیرالڈ کناؤس وفاقی جرمن حکومت کے مشیر ہیں اور انہوں نے ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ کلاؤس یورپی استحکام کے پروگرام کے سربراہ بھی ہیں۔جرمنی کے ایک عوامی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یورپ سے پناہ گزینوں کے واپسی کے لیے ان کے آبائی وطنوں کے ساتھ معاہدے کرنے کی ضرورت ہے۔اس مقصد کے لیے انہوں نے تجویز پیش کی کہ تارکین وطن کے آبائی ممالک کی حکومتوں کے ساتھ ایسے معاہدے کیے جائیں جن کے تحت ان ممالک سے یورپ کی جانب قانونی طریقے سے ہجرت کا کوٹہ مقرر کیا جائے اور اس کے بدلے میں یہ ممالک یورپ میں پناہ کے مسترد درخواست گزار اپنے شہریوں کی وطن واپسی کو یقینی بنائیں۔سیاسی امور کے ماہر گیرالڈ کناؤس کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ان ممالک کو صرف پیسوں کی پیش کش کر کے پناہ گزینوں کی واپس قبول کرنے کا قائل نہیں کرسکتی۔گزشتہ برس ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے میں بھی کناؤس کا کردار کلیدی تھا۔ اس معاہدے کے بعد ترکی کے ذریعے یورپ پہنچنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ترک معاہدے میں بھی یورپی یونین ترکی میں مقیم مہاجرین کی مدد کے لیے نہ صرف مالی تعاون فراہم کر رہی ہے بلکہ ترکی سے غیر قانونی طور پر یونان پہنچنے والے ہر شامی مہاجر کے بدلے ترکی میں مقیم ایک شامی مہاجر کو قانونی طور پر کسی نہ کسی یورپی ملک میں آبادکرنابھی معاہدہ کی ایک اہم شق ہے۔


Share: